فیفا ورلڈکپ: ریڈ کارڈ تنازع پر فیفا کے صدر سے کیا کہا تھا؟ ٹرمپ نے بتادیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فٹبالر فولارین بالوگن کے متنازع ریڈ کارڈ کے معاملے پر فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو سے ہونے والی اپنی گفتگو کی تفصیلات بیان کردیں۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے فیفا پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ڈالا بلکہ صرف اس فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی تھی کیونکہ ان کے خیال میں یہ فاؤل ہی نہیں تھا۔
ان کے مطابق میدان میں دونوں کھلاڑی صرف ایک دوسرے سے ٹکرائے اور الجھ گئے تھے جسے ریڈ کارڈ دینے کے قابل واقعہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
امریکی صدر نے کہا کہ فیفا نے معطلی ختم کرنے کا فیصلہ کرکے درست اور دانشمندانہ اقدام کیا۔
انہوں نے ریفری کے ابتدائی فیصلے پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اصل مسئلہ ریڈ کارڈ دکھانے کا فیصلہ تھا لیکن زیادہ تر لوگ صرف اس کی منسوخی پر بات کر رہے ہیں جبکہ ریفری کی غلطی کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ فیفا نے بالوگن کی ایک میچ کی معطلی ختم کر دی تھی جس کے بعد وہ بیلجیئم کے خلاف ورلڈ کپ کے اہم مقابلے میں کھیلنے کے اہل قرار پائے۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے فیفا پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ڈالا بلکہ صرف اس فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی تھی کیونکہ ان کے خیال میں یہ فاؤل ہی نہیں تھا۔
ان کے مطابق میدان میں دونوں کھلاڑی صرف ایک دوسرے سے ٹکرائے اور الجھ گئے تھے جسے ریڈ کارڈ دینے کے قابل واقعہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
امریکی صدر نے کہا کہ فیفا نے معطلی ختم کرنے کا فیصلہ کرکے درست اور دانشمندانہ اقدام کیا۔
https://x.com/FoxNews/status/2074141395917394123
انہوں نے ریفری کے ابتدائی فیصلے پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اصل مسئلہ ریڈ کارڈ دکھانے کا فیصلہ تھا لیکن زیادہ تر لوگ صرف اس کی منسوخی پر بات کر رہے ہیں جبکہ ریفری کی غلطی کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ فیفا نے بالوگن کی ایک میچ کی معطلی ختم کر دی تھی جس کے بعد وہ بیلجیئم کے خلاف ورلڈ کپ کے اہم مقابلے میں کھیلنے کے اہل قرار پائے۔
قارئین کی رائے
ہر قاری ایک براؤزر سے ایک رائے دے سکتا ہے۔ اس سے نیوز روم کو سمجھ آتی ہے کہ کون سی خبر پسند کی جا رہی ہے۔