حکومت اعلامیہ جاری کرے کہ سسٹم تباہ نہیں ہوا بلکہ ٹھیک چل رہا ہے، پی پی رہنما
پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم افضل چن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ محسن نقوی کے بیان پر وفاقی کابینہ اعلامیہ جاری کرے کہ سسٹم تباہ نہیں ہوا بلکہ ٹھیک چل رہا ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم افضل چن نے ایکسپریس نیوز کے پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی کے نظام تباہ ہونے کے بیان پر وفاقی کابینہ کوئی اعلامیہ جاری کرے کہ سسٹم تباہ نہیں ہوا ، بلکہ صحیح چل رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی وزرا خواجہ آصف ، محسن نقوی اور علیم خان کے بیانات سامنے آئے جن پر حکومت کی وضاحت بہت ضروری ہے۔
آزاد جموں و کشمیر انتخابات سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے ندیم افضل چن کا کہنا تھا کہ ہمیں توقع نہیں تھی کہ آزاد جموں و کشمیر انتخابات میں ہمیں لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں ملے گی، ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے تو گھڑی کی ٹک ٹک کی بات کی تھی، گھڑی کی ٹک ٹک ختم ، اب تو گھڑیال دوڑ پڑا ہے، آزاد جموں کشمیر انتخابات میں جو کچھ ہوا اس کے بعد ہم کشمیر میں ہم اپنی جماعت کے لوگوں کو کیا جواب دیں گے؟۔
ندیم افضل چن کا کہنا تھا کہ ہمارا کوئی سنجیدہ تنازعہ نہیں تھا، کشمیر میں انتخابات کے پہلے مرحلے کے بعد ہم نے کہا کہ اگلے مرحلے میں لڑائی نہیں ہونی چاہیے۔ رہنما پیپلز پارٹی نے کہا کہ اب دیکھتے ہیں چیزیں کیا رخ اختیا ر کرتی ہیں، ہم نے آپشن دیا کہ دوبارہ گنتی کروا لیتے ہیں ، اس سے بھی یہ مکر گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو نے ریاست مخالف جمود کو توڑا اور سیاسی لوگوں کو انگیج کیا، کشمیر میں لوگوں نے وفاقی حکومت کیخلاف ردعمل دکھایا۔ رہنما پیپلز پارٹی نے ن لیگ کی پنجاب حکومت کے حوالےسے شکوہ کیا کہ پیپلز پارٹی کا پنجاب میں کوئی کام نہیں ہوتا، ہمیں یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ ہم اتحادی جماعت ہیں، بلدیاتی سسٹم پر بھی انہوں نے ہم سے مشاورت نہیں کی جو کرنی چاہیے تھی۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما ندیم افضل چن نے ایکسپریس نیوز کے پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی کے نظام تباہ ہونے کے بیان پر وفاقی کابینہ کوئی اعلامیہ جاری کرے کہ سسٹم تباہ نہیں ہوا ، بلکہ صحیح چل رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی وزرا خواجہ آصف ، محسن نقوی اور علیم خان کے بیانات سامنے آئے جن پر حکومت کی وضاحت بہت ضروری ہے۔
آزاد جموں و کشمیر انتخابات سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے ندیم افضل چن کا کہنا تھا کہ ہمیں توقع نہیں تھی کہ آزاد جموں و کشمیر انتخابات میں ہمیں لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں ملے گی، ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے تو گھڑی کی ٹک ٹک کی بات کی تھی، گھڑی کی ٹک ٹک ختم ، اب تو گھڑیال دوڑ پڑا ہے، آزاد جموں کشمیر انتخابات میں جو کچھ ہوا اس کے بعد ہم کشمیر میں ہم اپنی جماعت کے لوگوں کو کیا جواب دیں گے؟۔
ندیم افضل چن کا کہنا تھا کہ ہمارا کوئی سنجیدہ تنازعہ نہیں تھا، کشمیر میں انتخابات کے پہلے مرحلے کے بعد ہم نے کہا کہ اگلے مرحلے میں لڑائی نہیں ہونی چاہیے۔ رہنما پیپلز پارٹی نے کہا کہ اب دیکھتے ہیں چیزیں کیا رخ اختیا ر کرتی ہیں، ہم نے آپشن دیا کہ دوبارہ گنتی کروا لیتے ہیں ، اس سے بھی یہ مکر گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو نے ریاست مخالف جمود کو توڑا اور سیاسی لوگوں کو انگیج کیا، کشمیر میں لوگوں نے وفاقی حکومت کیخلاف ردعمل دکھایا۔ رہنما پیپلز پارٹی نے ن لیگ کی پنجاب حکومت کے حوالےسے شکوہ کیا کہ پیپلز پارٹی کا پنجاب میں کوئی کام نہیں ہوتا، ہمیں یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ ہم اتحادی جماعت ہیں، بلدیاتی سسٹم پر بھی انہوں نے ہم سے مشاورت نہیں کی جو کرنی چاہیے تھی۔
قارئین کی رائے
ہر قاری ایک براؤزر سے ایک رائے دے سکتا ہے۔ اس سے نیوز روم کو سمجھ آتی ہے کہ کون سی خبر پسند کی جا رہی ہے۔