دنیا

امریکا اور ایران میں نئے معاہدے کی کوشش، آبنائے ہرمز 60 دن تک بغیر فیس کھولنے کی تجویز

امریکا اور ایران میں نئے معاہدے کی کوشش، آبنائے ہرمز 60 دن تک بغیر فیس کھولنے کی تجویز
تل ابیب: اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ثالثی کرنے والے ممالک امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کو دوبارہ فعال بنانے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے نئی سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں۔
اسرائیلی ٹی وی چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق معاملے سے واقف ذرائع نے بتایا ہے کہ زیرِ غور مجوزہ معاہدے میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی کی بحالی اور آبنائے ہرمز کو 60 روز کے لیے بغیر کسی فیس کے تجارتی جہازوں کے لیے کھولنے کی تجویز شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا، عالمی بحری تجارت کو معمول پر لانا اور توانائی کی عالمی سپلائی کو درپیش خدشات میں کمی لانا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ثالثی کی کوششوں میں مختلف علاقائی اور بین الاقوامی فریق شریک ہیں تاہم اس مجوزہ منصوبے کے حوالے سے امریکا یا ایران کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ اعلان یا تصدیق سامنے نہیں آئی۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر دونوں ممالک اس تجویز پر متفق ہو جاتے ہیں تو آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور گیس کی ترسیل دوبارہ معمول پر آنے میں مدد مل سکتی ہے، جس کے عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر مثبت اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا رکاوٹ عالمی تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت کو براہِ راست متاثر کرتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مجوزہ منصوبے کی کامیابی کا انحصار امریکا اور ایران کے درمیان اعتماد سازی، جنگ بندی پر عمل درآمد اور آئندہ سفارتی مذاکرات کی پیش رفت پر ہوگا۔
قارئین کی رائے

ہر قاری ایک براؤزر سے ایک رائے دے سکتا ہے۔ اس سے نیوز روم کو سمجھ آتی ہے کہ کون سی خبر پسند کی جا رہی ہے۔

اس مضمون کو اپنی ویب سائٹ پر شامل کریں