دنیا

یکطرفہ امریکی مطالبات کا دور ختم ہوچکا، 7 شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی، قالیباف

یکطرفہ امریکی مطالبات کا دور ختم ہوچکا، 7 شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی، قالیباف
ایران نے واضح کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ طے پانے والے جون کے عبوری معاہدے کی سات شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز دوبارہ نہیں کھولی جائے گی۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے یہ بات ایرانی میڈیا ادارے نورنیوز سے گفتگو میں کہی، جسے خبر رساں ادارے رائٹرز نے رپورٹ کیا ہے۔
قالیباف کے مطابق امریکا نے ثالث کے ذریعے حال ہی میں کچھ تجاویز ایران تک پہنچائی ہیں، تاہم تہران کا مؤقف واضح اور مضبوط ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے وقت ضائع کرنے اور یکطرفہ مطالبات مسلط کرنے کا دور ختم ہوچکا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بحالی کو جون میں پاکستان کی میزبانی میں طے پانے والے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے منسلک کیا گیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے تحت طے شدہ شرائط پر عمل درآمد کے بعد ہی آبنائے میں معمول کی بحری آمدورفت بحال کی جائے گی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کو چند روز قبل واشنگٹن کی جانب سے اس کی سفارتی تجویز کا جواب موصول ہوا تھا۔ اس سے قبل ایران نے امریکا کو سات روزہ اعتماد سازی کا منصوبہ پیش کیا تھا، جس میں شرائط پوری ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور معمول کی بحری آمدورفت بحال کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔
نورنیوز کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان موجودہ اختلافات میں ایک اہم معاملہ یہ ہے کہ دونوں فریق شرائط پر عمل درآمد کی ترتیب اور طریقہ کار پر متفق نہیں ہو سکے ہیں۔ قطر اس معاملے میں دونوں ممالک کے درمیان پیغامات پہنچانے اور مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، جہاں سے تیل اور مائع قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ حالیہ کشیدگی کے باعث اس راستے سے بحری آمدورفت میں نمایاں کمی آئی تھی، اگرچہ ستمبر میں ایل این جی کی ترسیل میں کچھ بہتری بھی دیکھی گئی۔
قارئین کی رائے

ہر قاری ایک براؤزر سے ایک رائے دے سکتا ہے۔ اس سے نیوز روم کو سمجھ آتی ہے کہ کون سی خبر پسند کی جا رہی ہے۔

اس مضمون کو اپنی ویب سائٹ پر شامل کریں