شوبز

بھارتیوں کی منافقت، میکا سنگھ نے پاکستانی مسلمانوں سے متعلق رویے پر سوال اٹھا دیا

بھارتیوں کی منافقت، میکا سنگھ نے پاکستانی مسلمانوں سے متعلق رویے پر سوال اٹھا دیا
بھارتی گلوکار میکا سنگھ نے پاکستان کے اپنے 2019 کے دورے کو یاد کرتے ہوئے پاک بھارت تعلقات اور پاکستانی عوام کے بارے میں کھل کر اظہار خیال کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ یہ بات آج تک نہیں سمجھ سکے کہ بھارت میں بعض لوگ پاکستانی مسلمانوں کو منفی نظر سے دیکھتے ہیں، لیکن دبئی کے مسلمانوں کو اچھا سمجھتے ہیں۔
50 سالہ میکا سنگھ نے پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کے دورے کے دوران انہیں وہاں کے لوگوں سے بھرپور محبت اور مہمان نوازی ملی۔ ان کے مطابق پاکستان کے لوگ برے نہیں ہیں اور انہوں نے وہاں مسلمان افراد کو گوردواروں میں سکھ مقدس مقامات کی خدمت اور صفائی کرتے ہوئے بھی دیکھا۔
گلوکار نے کہا کہ جب وہ پاکستان گئے تو ان کے بہت سے مسلم بھائی گوردواروں میں خدمت انجام دے رہے تھے اور صفائی کے کاموں میں بھی حصہ لے رہے تھے۔ میکا کے بقول انہیں یہ دیکھ کر احساس ہوا کہ پاکستان اور وہاں کے عوام کو صرف مذہب یا ملک کی بنیاد پر منفی انداز میں دیکھنا درست نہیں۔
میکا سنگھ نے کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آتا کہ آخر بھارت میں بعض لوگوں کو پاکستان کے مسلمان برے کیوں لگتے ہیں، جبکہ دبئی کے مسلمان انہیں بہت اچھے محسوس ہوتے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ اس تضاد کو کبھی سمجھ نہیں سکے۔
پوڈکاسٹ میں جب ان سے دلجیت دوسانجھ اور پاکستانی فنکاروں کے ساتھ کام کرنے سے متعلق سوال کیا گیا تو میکا سنگھ نے کہا کہ انہیں بھارتی شوبز میں پاکستانی گلوکاروں کے پرفارم کرنے پر کوئی اعتراض نہیں۔ انہوں نے پاکستان میں پرفارم کرنے والے بھارتی فنکاروں کے دفاع میں بھی کہا کہ اس معاملے پر بلاوجہ تنقید نہیں ہونی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب پاکستانی فنکار بھارت آتے ہیں تو انہیں عزت دی جاتی ہے اور بالی ووڈ بھی پاکستانی گلوکاروں کا خیرمقدم کرتا ہے۔ اسی طرح اگر پاکستانی عوام بھارتی فنکاروں کو عزت دیتے ہیں تو اس پر خوش ہونا چاہیے۔
میکا سنگھ نے ننکانہ صاحب اور پنجہ صاحب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان مقدس مقامات کی موجودگی پاکستان کو ان کے لیے گہرے مذہبی اور جذباتی معنی دیتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب انہیں پاکستان میں پرفارم کرنے کی دعوت ملی تو ان کی ترجیح معاوضہ نہیں بلکہ گوردوارے تک رسائی تھی۔
گلوکار نے واضح کیا کہ وہ اڑی حملے سے پہلے باقاعدہ ویزا لے کر کھلے عام پاکستان گئے تھے، اس لیے ان کے دورے اور پرفارمنس کو سیاسی عمل قرار نہیں دیا جانا چاہیے۔
یاد رہے کہ اگست 2019 میں کراچی کی ایک شادی کی تقریب میں پرفارم کرنے کے بعد میکا سنگھ کو بھارتی فلم انڈسٹری میں پابندی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد آل انڈیا سائن ورکز ایسوسی ایشن اور فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سائن ایمپلائز نے ان کا بائیکاٹ کردیا تھا۔ بعد ازاں 21 اگست 2019 کو میکا سنگھ نے پریس کانفرنس میں معافی مانگی، جس کے بعد ان پر عائد پابندی ختم کردی گئی تھی۔
قارئین کی رائے

ہر قاری ایک براؤزر سے ایک رائے دے سکتا ہے۔ اس سے نیوز روم کو سمجھ آتی ہے کہ کون سی خبر پسند کی جا رہی ہے۔

اس مضمون کو اپنی ویب سائٹ پر شامل کریں